ایک سال سے زائد عرصے تک، پاکستان کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک نام نے خوف برپا کر رکھا تھا۔ وہ نام تھا، "ایمان”۔
یہ پراسرار لڑکی نوجوانوں کو محبت، نوکری یا بیرونِ ملک جانے کے خواب دکھا کر جال میں پھنساتی تھی۔ کچھ نوجوان ایسے تھے جنہیں پھر کبھی کسی نے نہ دیکھا۔۔۔۔، جبکہ کئی عقوبت خانوں تک پہنچا دیے گئے یا توہینِ مذہب جیسے سنگین مقدمات میں سزائے موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ کوئی نہیں جان پایا تھا کہ آخر یہ "ایمان” ہے کون؟
لیکن اب ایمان نامی لڑکی کے حوالے سے حقائق سامنے آ چکے ہیں۔
جھوٹی شناخت کے پردے کے پیچھے ایمان نامی یہ فرضی کردار، کبھی اسلام آباد کے مہنگے گیسٹ ہاؤسز اور کبھی میرپور، آزاد کشمیر کی گلیوں میں روپوش، درحقیقت ایک منظم مذہبی شدت پسند گروہ کا خفیہ مگر طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ ایک ایسا گروہ ہے جسے پاکستان کے ایک اہم قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ’بلاسفیمی بزنس گروپ (BBG)‘ کا نام دیا ہے۔
بلاسفیمی بزنس گینگ کا سرغنہ ایڈوکیٹ راو عبدالرحیم ہے ،جو کہ توہین مذہب کے حوالے سے انتہا پسندانہ خیالات اور شدت پسندانہ رویہ رکھتا ہے، بڑے منظم انداز سے سینکڑوں افراد کو ہنی ٹریپ کر کے خاموش، اغوا اور قتل کروا چکا ہے۔
پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں ، عدالتوں اور تحقیقاتی ایجنسیوں ۔۔۔۔کے ساتھ پریشان کن گٹھ جوڑ کی وجہ سے اس گینگ نے مذہب کو صرف ڈھال نہیں بلکہ ایک مہلک اور جان لیوا ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔
ایک سوال جو پورے ملک میں گونجنے لگا: آخر یہ "ایمان” ہے کون؟
عدالتوں سے لے کر بازاروں، گلی کوچوں تک، ہر جگہ ایک ہی سوال کیا جا رہا تھا : یہ لڑکی "ایمان” کون ہے جس نے سینکروں نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کر کے قبر اور موت کی کالی کوٹھڑیوں تک پہنچا دیا۔ ایمان کا پراسرار چہرہ دہشت کی علامت بن چکا تھا جو نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بذریعہ ہنی ٹریپ توہین مذہب کے جھوٹے الزامات میں جھونکتی ہے ،اور جیل کی کال کوٹھڑی سے پھانسی گھاٹ یعنی موت کی دہلیز تک لے جاتی ہے۔
کیا "ایمان” خود اس پورے کھیل کی ماسٹر مائنڈ ہے یا پھر صرف مذہبی انتہاپسندوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والا ایک مہرہ؟
نہ کوئی تصویر دستیاب ہے، نہ کوئی سرکاری ریکارڈ، البتہ قیاس آرائیوں اور افواہوں کی بھرمار ہے۔
اس گھناونے کھیل کا اتنا اہم مہرہ ہونے کے باوجود نہ تو پاکستان میں کسی میڈیاکے ادارے نے اس کا پیچھا کیا، نہ کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تحقیق کی، اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے نے اس کے اصل چہرے سے پردہ ہٹا کر حقائق سامنے لانے کی کوشش کی۔
بھٹکتی پرچھائی کا تعاقب۔۔۔۔۔فیکٹ فوکس کا تحقیقاتی سفر:
فیکٹ فوکس کی ٹیم نے ایمان کے حوالے سے حقائق جاننے اور عوام کے سامنے لانے کے لئے ایک طویل اور منظم تحقیق کا آغاز کیا ۔ یہ تحقیقاتی سفر مہینوں پر محیط تھا۔ موبائل ڈیٹا کی چھان بین، اور عید کی چھٹیوں کے دوران سفر کے پیٹرن کا تجزیہ کرتے ہوئے، ٹیم آہستہ آہستہ "ایمان” کے گرد دائرہ تنگ کرتی گئی۔ اہم موڑ اس وقت آیا جب متاثرین کے ساتھ ایمان کی ویڈیو کالز کے دوران کے مناظر اور عید کی تعطیلات کے دوران اس کی موبائل لوکیشنز کا جائزہ لیا گیا۔ تمام شواہد فیکٹ فوکس کو آزاد کشمیر کے شہر میرپور کی طرف لے گئے جو "ایمان” کا آبائی علاقہ نکلا۔
فیکٹ فوکس نے ایمان کی تصاویر سماجی طور پر متحرک مقامی افراد کو دکھائیں، اور بعض اوقات سوشل میڈیا پر جاری بھی کیں تاکہ کسی طرح اس کی پہچان ممکن ہو سکے۔ کئی مہینوں کی مسلسل محنت اور فیلڈ ورک کے بعد بالآخر ایمان کا اصل چہرہ بے نقاب ہوا۔ "ایمان” کا اصل نام کومل اسماعیل ہے ۔ کومل پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے، جس کا ماضی اور حال دھوکہ دہی، جعلی شناخت اور منظم جرائم سے بھرا پڑا ہے۔
کومل اسماعیل کی عمر تقریباً 35 سال ہے۔ اس کا خاندان میرپور آزاد کشمیر کے علاقہ بوہر کالونی، بند روڈ (سنگوٹ) کے قریب مقیم ہے۔ یہ علاقہ تھوتھال تھانے کی حدود میں آتا ہے۔ میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (MUST) کے ریکارڈ کے مطابق، کومل نے 2009–2013 کے بیچ میں کمپیوٹر سائنس (BSCS) کی ڈگری حاصل کی تھی۔

کچھ ماہرین کے مطابق، یہ بھی ممکن ہے کہ کومل اسماعیل ان متعدد خواتین میں سے ایک ہو جو انسانی اسمگلنگ کا شکار بنیں اور بعد ازاں مذہبی شدت پسندی کے نیٹ ورک میں بطور ہتھیار استعمال کی گئیں۔
میرپور سے قتل تک: انڈرورلڈ میں کومل اسماعیل کا ابھرتا ہوا نام:
کومل اسماعیل کا جرائم سے تعلق اُس وقت سے ہے جب وہ بلاسفیمی بزنس گینگ میں شامل بھی نہیں ہوئی تھی۔ اپریل 2021 میں کومل اسماعیل کو اس کے بھائی تیمور علی اور شوہر محمد فاروقی کے ساتھ، اسلام آباد میں ڈی ایچ اے کے علاقے میں 36 سالہ مغیث شاہ کے بہیمانہ قتل میں ملوث پایا گیا۔
یہ قتل سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہوا اور اس حوالے سے ایف آئی آر نمبر 202/2021 تھانہ سہالہ تھانے میں درج کی گئی۔ ٹھوس شواہد کے باوجود، اس تین رکنی ٹولے نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس میں موجود اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے نظام کو چکمہ دیا اور گرفتاری سے بچ نکلے۔

اس کیس کا قانونی نتیجہ چونکا دینے والا تھا: تیمور علی، جس نے قتل کا اعتراف کیا تھا، اسے صرف 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جبکہ کومل اسماعیل اور اس کے شوہر محمد فاروقی کو مختصر حراست کے بعد رہا کر دیا گیا۔
بلاسفیمی بزنس گروپ کا سرغنہ راو عبدالرحیم قتل کے مقدمہ میں کومل، محمد فاروقی اور تیمور علی کا وکیل:
قتل کے اس مقدمے میں محمد فاروقی، تیمور علی اور کومل سماعیل کی عدالت میں وکالت کسی اور نے نہیں بلکہ خود ایڈووکیٹ راؤ عبد الرحیم نے کی۔ یاد رہے، یہ وہی راؤ عبدالرحیم ہے جو تاحال خود کو ہنی ٹریپنگ نیٹ ورک سے لا تعلق ظاہر کرتا رہا ہے، حالانکہ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کا سربراہ ہے۔


اسلام آباد میں ہیڈ کوارٹر: اور شہر کے مہنگے ترین علاقے میں گیسٹ ہاوس، ایک رات کے صرف 20 ڈالر:
فیکٹ فوکس کی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ کومل اسماعیل، جسے ابتدا میں نادرا نے میرپور، آزاد کشمیر کا مستقل پتہ دیا تھا، بعد ازاں اسلام آباد منتقل ہو گئی۔ اسے نیا شناختی کارڈ جاری کیا گیا جس پر پتہ درج ہے: مکان نمبر 147، گلی نمبر 37، F-10/1 جو وفاقی دارالحکومت کے سب سے مہنگے رہائشی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی پتہ گوگل پر "آرلے گیسٹ ہاؤس” کے نام سے درج ہے، جسے حمزہ یونس فاروقی نامی شخص چلاتا ہے اور یہاں مشکوک طور پر صرف 20 ڈالر فی رات کے حساب سے کمرے کرائے پر دیے جاتے ہیں۔


فیکٹ فوکس کی ٹیم نے مذکورہ پراپرٹی پر کئی بار دورہ کیا۔ حالیہ دنوں میں مکان ویران دکھائی دیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تفتیش کی خبر لیک ہو چکی تھی۔ یہ مکان 1991 تک بشیر احمد قریشی کے نام پر تھا، بعد ازاں اسے دو حصوں (147 اور 147-A) میں تقسیم کر کے ایوب اختر قریشی اور محمد یونس فاروقی کو منتقل کیا گیا۔ 2007 میں محمد یونس فاروقی کے انتقال کے بعد، مکان نمبر 147 حمزہ یونس فاروقی، فاضل یونس، بلال یونس اور دیگر کے نام منتقل ہوا۔ مکان کے باہر ’یونس فاروقی‘ اور ’حمزہ یونس فاروقی‘ کی نیم پلیٹیں موجود ہیں۔
جب فیکٹ فوکس نے حمزہ یونس فاروقی سے محمد فاروقی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ محمد فاروقی اب پاکستان میں نہیں، بلکہ متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکا ہے۔ جب ان سے کومل اسماعیل کے بارے میں سوال کیا گیا تو حمزہ کا کہنا تھا کہ وہ تصدیق کے بعد ہی معلومات دے سکیں گے، اور اُس وقت انہوں نے مزید تفصیل بتانے سے انکار کر دیا۔
بعد ازاں حمزہ یونس فاروقی نے خود سے دوبارا فیکٹ فوکس سے رابطہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ محمد فاروقی اور کومل اسماعیل کا ان سے یا ان کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ 2013 سے 2018 تک ان کے مکان میں کرائے دار تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ نادرا نے ان دونوں کا مستقل پتہ ان کے گھر کا کیسے درج کر دیا، تو حمزہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں نادرا آفس سے رابطہ کریں گے۔
حمزہ نے مزید انکشاف کیا کہ 2021 میں پولیس نے ان کے گھر پر ایک قتل کیس کے سلسلے میں چھاپہ مارا تھا، جو محمد فاروقی سے متعلق تھا، کیونکہ ان کا مستقل پتہ اسی مکان پر درج تھا۔ تاہم، حیرت انگیز طور پر حمزہ فاروقی نے نادرا کو اس معاملے کی اطلاع نہیں دی، حالانکہ پولیس کارروائی ہو چکی تھی۔
کومل اسماعیل کے شوہر محمد فاروقی کی پیدائش 1988 میں ہوئی۔ اس کے دیگر خاندانی افراد میں والد عبدالرحیم فاروقی، والدہ شمس النساء اور بہن ماریا فاروقی شامل ہیں۔ کومل کے والد چوہدری محمد اسماعیل (عمر 84 سال) میرپور آزاد کشمیر میں تحصیلدار رہ چکے ہیں۔ کومل کے خاندان میں دو مائیں (زرینہ چوہدری اور سلامت بیگم)، بھائی تیمور علی (38 سال) اور تین بہنیں، روزمین اسماعیل ریاض (36 سال)، قرۃ العین ملک (42 سال)، اور نور العین نذیر (41 سال) شامل ہیں۔ ایک سرکاری تحقیقاتی ادارے کے مطابق، کومل کے کچھ رشتہ دار برطانیہ میں بھی مقیم ہیں۔
بلاسفیمی بزنس گینگ کی ساخت: ایک خونی نیٹ ورک:
کومل اسماعیل اس خونی نیٹ ورک کی اکیلی کردار نہیں تھی، بلکہ وہ ایک ایسے منظم اور خطرناک گروہ کا مؤثر ہتھیار تھی، جس کی قیادت راؤ عبدالرحیم کر رہے تھے—ایک معروف مذہبی شدت پسند وکیل، جنہیں توہینِ مذہب کے مقدمات میں ملک گیر شہرت حاصل ہے۔
اس گروہ کی تنظیمی ساخت میں شامل اہم شخصیات درج ذیل ہیں:
- راؤ عبدالرحیم (سرغنہ)
- شیراز فاروقی اور حسن معاویہ (اہم ساتھی)
- ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (NCCIA) کے اندرونی سہولت کار، جو جھوٹے ایف آئی آرز اور تشدد میں مدد دیتے تھے
- غضنفر علی (راؤ کا معاون)، جو جنوبی پنجاب کی ایک غریب خاتون خورشید مائی کے شناختی کاغذات پر جعلی سمز رجسٹر کرتا رہا
اس گروہ کا طریقۂ واردات نہایت سادہ مگر مہلک تھا: کومل، جو ‘ایمان’ کے نام سے جعلی شناخت اختیار کرتی تھی، دیگر خواتین کے ساتھ مل کر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو محبت، نوکری یا بیرونِ ملک جانے کے جھوٹے وعدوں سے ورغلاتی۔ جیسے ہی شکار طے شدہ مقام پر پہنچتا، عموماً سفید رنگ کی سوزوکی کلٹس گاڑی (رجسٹریشن نمبر ALA-356) کے ذریعے اُسے اغوا کر لیا جاتا، شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، اور بعض اوقات قتل بھی کر دیا جاتا۔
جو زندہ بچتے، اُنہیں ایف آئی اے کے سائبر کرائم وِنگ (جو اب NCCIA کہلاتا ہے) کے حوالے کر دیا جاتا، جہاں اُن پر جھوٹے توہینِ مذہب کے الزامات لگا کر انہیں ناقابلِ ضمانت مقدمات میں پھنسا دیا جاتا اور ایسے مقدمات جن سے عدالت سے بری ہونا تقریباً ناممکن ہوتا۔
کیس اسٹڈی: 21 سالہ عبداللہ شاہ کا لرزہ خیز قتل:
یہ واقعہ اس نیٹ ورک کی سب سے خوفناک اور لرزا دینے والی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ سید عبداللہ شاہ، راولپنڈی کا 21 سالہ طالبعلم، جسے راؤ عبدالرحیم کے زیرِ استعمال موبائل نمبر کے ذریعے F-10 مرکز، اسلام آباد بلایا گیا۔ یہ مقام اُس گیسٹ ہاؤس سے چند قدم کے فاصلے پر واقع تھا، جس کا ذکر کہانی میں اوپر آ چکا ہے۔ عبداللہ وہیں سے لاپتہ ہوا اور پھر کبھی زندہ واپس نہ آ سکا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اُسے اغوا کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔
جب مقتول کے والد سید عامر شاہ نے انصاف کے لیے کوشش کی تو خود اُسے ایک جعلی توہینِ مذہب کے مقدمے میں پھنسا دیا گیا۔
مافیا نے سید عامر شاہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ پولیس کے سامنے ایک بیان ریکارڈ کرائے، جس میں راؤ عبدالرحیم کو بےگناہ قرار دے، ورنہ اُس کے باقی بچوں کے خلاف بھی توہینِ مذہب کے مقدمات قائم کر دیے جائیں گے۔
شدید دباؤ اور جان کے خطرے کے باعث، سید عامر شاہ کو بالآخر جھوٹا بیان دینے پر مجبور کر دیا گیا۔
جعلسازی، فراڈ اور عدالتی شخصیت کا جعلی روپ دھارنا:
کومل اور اُس کے شوہر کی مجرمانہ سرگرمیاں صرف اغواء اور قتل تک محدود نہیں رہیں۔ 2024 کے اوائل میں، جب کومل کا بھائی تیمور جیل میں تھا (جہلم)، اُس وقت محمد فاروقی نے پاکستان کے اٹارنی جنرل کا روپ دھار کر جیل میں اس سے ملاقات کی کوشش کی۔ اس ملاقات کے لیے انہوں نے ایک سپریم کورٹ کے جج کی جعلی سفارش بھی پیش کی۔
جب یہ دھوکہ بےنقاب ہوا، تو دونوں کو گرفتار کر کے تھانہ سول لائنز، جہلم میں ایف آئی آر نمبر 39/24 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم، وہ ایک بار پھر قانونی سزاؤں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

طاقت اور کنٹرول کے لیے توہینِ مذہب کا کاروبار
یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ ہولناک واقعہ نہیں بلکہ ایک گہری اور پھیلتی ہوئی بیماری کی علامت ہے۔ پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین، جنہیں مذہبی جذبات کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا، اب جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ہاتھوں ہتھیار بن چکے ہیں—جو انہیں بھتہ خوری، انتقام اور طاقت کے کھیل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس نیٹ ورک میں ایف آئی اے/NCCIA کے اہلکاروں، وکلا، اور وفاقی تحقیقاتی افسران کی شمولیت اس گھناؤنے کھیل کی جڑوں میں گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔
فیکٹ فوکس کی تفتیش سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ توہینِ مذہب اب ایک منافع بخش صنعت بن چکی ہے، جہاں انسانی زندگیاں ذاتی مفادات، انتقام اور سیاسی کنٹرول کی خاطر سودے بازی کا مال بن چکی ہیں۔ یہ پورا نظام ابتدا ہی سے پاکستان کی اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے وضع کیا گیا تھا۔
فیکٹ فوکس تمام شواہد منظرِ عام پر لا رہا ہے:
فیکٹ فوکس یہ تحقیقاتی رپورٹ متعدد ایف آئی آرز، سرکاری ریکارڈز، اور وہ مواصلاتی شواہد کے ساتھ شائع کر رہا ہے جو کومل اور راؤ عبدالرہیم کے ذریعے استعمال کیے گئے۔ اس مواد میں شامل ہیں:
- کومل اسماعیل اور دیگر کرداروں کے نادرا ریکارڈز
- قتل، فراڈ، اور جعل سازی سے متعلق ایف آئی آرز
- سم رجسٹریشن ڈیٹا اور سفر کے ریکارڈز (پہلے رپورٹ میں شامل)
- "ایمان” کی ویڈیو کالز کے سکرین شاٹس اور متاثرین کے خاندانوں کی گواہیاں
فیکٹ فوکس اب یہ مکمل دستاویزاتی ڈوزیئر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی جمع کرا رہا ہے، تاکہ وہ توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال اور خواتین کی اسمگلنگ کی صورت حال پر نظر رکھ سکیں—جو ریاستی شراکت داری کے امکانات کو نمایاں کر رہی ہے۔
انصاف؟
پاکستان میں، جہاں کسی پر توہینِ مذہب کا الزام لگانا عدالت سے پہلے موت کی سزا بن سکتا ہے، وہاں جعلی توہینِ مذہب کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا قومی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ صرف کومل یا راؤ عبدالرہیم کی کہانی نہیں—بلکہ قانون کی حرمت کو بحال کرنے اور بے گناہ شہریوں کو جھوٹے مذہبی الزامات کے نیچے کچلے جانے سے بچانے کی جنگ ہے۔
فیکٹ فوکس اس مشن کو جاری رکھنے کا عزم کرتا ہے۔ فیکٹ فوکس، پاکستان کے عوام، عدلیہ، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی مبصرین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس انکشاف کو سنجیدگی سے لیں—اور اس سے پہلے کہ مزید زندگیاں ضائع ہوں، ٹھوس اور فوری کارروائی کریں۔
ایڈیٹوریل نوٹ:
فیکٹ فوکس کی ٹیم اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ کومل اس نیٹ ورک کے آپریشنز میں نہایت فعال اور مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے، جو نوجوان افراد کو نشانہ بناتا ہے۔ تاہم، یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے کہ اس نیٹ ورک کے سرپرست کس حد تک نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ خصوصاً ایسے معاشرے میں جو پدرشاہی نظام اور روایتی طاقت کے ڈھانچوں پر قائم ہے، جیسا کہ پاکستان۔
فیکٹ فوکس آئندہ دنوں میں کومل کے کردار اور اس کے محرکات پر مزید تحقیق جاری رکھے گا، اور درست، شفاف اور باخبر رپورٹنگ کے عزم پر قائم رہے گا۔
ہم ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ ان تمام خواتین کی جان و عزت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، جنہیں بلاسفیمی بزنس گروپ کے ذریعے ہنی ٹریپنگ جیسے ہتھکنڈوں میں استعمال کیا جا رہا ہے، اور انہیں فوری تحفظ فراہم کیا جائے