چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا بااثر بزنس مین سے ماہانہ پیسے لینے کا اعتراف

فیکٹ فوکس کو انٹرویو میں سکندر سلطان راجہ نے ڈی ایچ اے لاہور میں زیر تعمیر محل نما منشن کی ملکیت بھی تسلیم کر لی

پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر جلال سکندر سلطان راجہ لاہور کی ابدالین کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں موجود اپنے گھاس پوس سے بھرے دو خالی پلاٹس کے عوض ایک بااثر کاروباری شخصیت سے ہر ماہ بھاری رقم (کرایہ) وصول کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان پلاٹس پر نہ تو کسی قسم کی کوئی تعمیر ہے اور نہ ہی کوئی کاروباری سرگرمی۔ سکندر سلطان راجہ اپنے ٹیکس گوشواروں میں اس آمدن کو “لیز آمدن” کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیقاتی صحافت کو سپورٹ کریں ۔ ۔ ۔ فیکٹ فوکس کو گوفنڈ می پر سپورٹ کریں

https://GoFundMe.com/FactFocus

یہ دونوں پلاٹس اصل میں رہائشی پلاٹس تھے، مگر تقریباً دو سال قبل مخصوس حالات میں انہیں کمرشل پلاٹس میں تبدیل کیا گیا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ان کی مالیت کروڑوں روپوں تک جا پہنچی۔ فیکٹ فوکس کو دیے گئے انٹرویو میں سکندر سلطان راجہ نے اس تبدیلی کے حوالے سے کسی بھی غلط کام کے ہونے سے انکار کیا۔

فیکٹ فوکس کی تحقیقات اور موقع پر کیے گئے جائزے سے یہ اہم نقطہ ثابت ہوتا ہے کہ جس کاروباری شخصیت نے یہ پلاٹس لیز پر لیے، اس نے گزشتہ دو برس کے دوران وہاں کسی بھی قسم کی کوئی کاروباری سرگرمی شروع نہیں کی۔ اس کے باوجود چیف الیکشن کمشنر ان پلاٹس کا بھاری کرایہ مسلسل وصول کر رہے ہیں۔

ابدالین کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کی موجودہ انتظامیہ کے مؤقف کے مطابق یہ دونوں پلاٹس رہائشی تھے۔ سابق انتظامیہ نے دو سال سے زائد عرصہ قبل انہیں غیر قانونی طور پر کمرشل قرار دیا تھا۔ موجودہ انتظامیہ نے رواں سال مارچ میں اس فیصلے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے واپس لے لیا تھا۔

اس کے فوراً بعد پنجاب حکومت چیف الیکشن کمشنر کے دفاع میں میدان میں آ گئی۔ پنجاب حکومت کے محکمہ کوآپریٹوز نے ابدالین کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کی موجودہ انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے اور سکندر سلطان راجہ کے پلاٹس کو دوبارہ کمرشل حیثیت دے۔

ایسا سب یوں ہوا کہ سکندر سلطان راجہ نے سول عدالت میں دعوٰی دائر کرنے کی بجائے پنجاب کوآپریٹیوز ڈیپارٹمنٹ میں پٹیسشن دائر کی جو مسلم لیگ نواز کی حکومت کے مکمل کنٹرول میں ایک حکومتی ڈیپارٹمنٹ تھا۔ فیکٹ فوکس نے اس معاملے پر محکمہ کوآپریٹو پنجاب کے صوبائی سیکرٹری کو تفصیلی سوالنامہ بھیجا۔

محکمہ کوآپریٹو پنجاب کے سیکرٹری نوید حیدر شیرازی نے فیکٹ فوکس سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ یہ معاملہ ان کے محکمے میں زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا:

“معاملہ میری عدالت میں زیر سماعت، اس لیے میں اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتا۔”

اس کیس کی اگلی سماعت مئی میں ہی متوقع ہے، تاہم جس فیصلے پر اعتراض تھا، وہ ابدالین سوسائٹی کی انتظامیہ پہلے ہی واپس لے چکی تھی۔

نوید حیدر شیرازی اپریل دوہزار چھبیس میں سیکرٹری کوآپریٹو تعینات ہوئے تھے۔ ان سے قبل سینئر بیوروکریٹ محمد احسن وحید اس عہدے پر فائز تھے۔ جب فیکٹ فوکس نے محمد احسن وحید سے رابطہ کیا تو معاملے کا ذکر سنتے ہی انہوں نے فون بند کر دیا۔ اس تمام تر صورتحال کے حوالےسے ان کے کسی بھی قسم کے کردار سے متعلق تفصیلی سوالنامہ بھی بھیجا گیا، مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صورتحال سے وہ اس قدر پریشان ہوئے کہ جس نمبر سے ان سے رابطہ کیا گیا تھا، اسے فوراً بلاک کر دیا۔ بعد میں انہیں دوسرے نمبر سے سوالات بھیجے گئے۔


ابدالین سوسائٹی کے پلاٹس کی کمرشلائزیشن پر سکندر سلطان راجہ کا مؤقف

سکندر سلطان راجہ نے پیر، اٹھارہ مئی دوہزار چھبیس کو فیکٹ فوکس کو دیے گئے انٹرویو میں اپنا مؤقف بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے سسر، سینئر بیوروکریٹ سعید مہدی، جو خود “ابدالین” تھے، کو تقریباً پچیس سال قبل ابدالین سوسائٹی میں ایک پلاٹ ملا تھا۔ سکندر سلطان راجہ کے مطابق، چونکہ وہ خود بھی “ابدالین” ہیں، اس لیے انہیں بھی تقریباً بیس سال قبل ایک کنال کا پلاٹ الاٹ کیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر جلال سکندر سلطان راجہ

بعد میں سعید مہدی کے خاندان میں جائیداد کی تقسیم ہوئی تو دوسرا پلاٹ ان کی بیٹی رباب سکندر، یعنی سکندر سلطان راجہ کی اہلیہ، کے نام منتقل ہو گیا۔

سکندر سلطان راجہ کا پلاٹ نمبر سات سی، بلاک سی، فیز ون میں ہے، جبکہ ان کی اہلیہ رباب سکندر کا پلاٹ نمبر آٹھ سی اسی بلاک اور فیز میں واقع ہے۔

سکندر سلطان راجہ نے تسلیم کیا کہ یہ دونوں پلاٹس بنیادی طور پر رہائشی تھے۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان کی اہلیہ کا پلاٹ ان کے پلاٹ کے بالکل ساتھ، اور وہ بھی سوسائٹی کے اس اہم مقام پر، کیسے منتقل ہوا۔

سکندر سلطان راجہ نے مزید کہا کہ ابدالین سوسائٹی کی سابق انتظامیہ نے اس سڑک پر موجود پلاٹس کو کمرشل بنانے کی اجازت دی تھی جہاں ان کے دونوں پلاٹس واقع ہیں۔

ان کے بقول:

“میں نے تمام کارروائی مکمل کی اور سوسائٹی کی مطلوبہ فیس کے ساتھ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تقریباً تیس کروڑ روپے فیس بھی جمع کروائی۔”

تاہم سوسائٹی کی موجودہ انتظامیہ اس معاملے پر مختلف مؤقف رکھتی ہے۔

سکندر سلطان راجہ نے مزید کہا کہ ابدالین سوسائٹی کی موجودہ انتظامیہ نے انہیں اور دیگر افراد کو کوئی نوٹس دیے بغیر رہائشی پلاٹس کی کمرشلائزیشن منسوخ کر دی۔

انہوں نے کہا:

“یہ ناانصافی تھی کیونکہ ہم کمرشلائزیشن کی فیس پہلے ہی ادا کر چکے تھے۔”

انہوں نے مزید کہا:

“پنجاب حکومت کا محکمہ کوآپریٹو ہی ان کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے متعلقہ ادارہ ہے، اسی لیے میں نے محکمہ کوآپریٹو میں درخواست دائر کی۔”

سکندر سلطان راجہ نے خود بتایا کہ ان کی درخواست کے نتیجے میں ابدالین سوسائٹی کی موجودہ انتظامیہ نے اپنا سابقہ حکم واپس لے لیا اور ان کے پلاٹس کو دوبارہ کمرشل حیثیت دے دی گئی۔

سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ ان کا تعلق نہایت متوسط خاندان سے ہے۔ ان کے والد (میجر (ریٹائرڈ) سلطان راجہ) دورانِ ملازمت کم عمری میں وفات پا گئے تھے۔ ان کے بقول والد کے محکمے نے ان کی وفات کے بعد خاندان کا بہت خیال رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے آٹھ بہن بھائی اپنی محنت سے آگے بڑھے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنا سارا سراکری کیرئر ایمانداری سے گزارا اور چیف الیکشن کمشنر بننے سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے تھے۔


ابدالین سوسائٹی کا مؤقف

جب فیکٹ فوکس نے ابدالین سوسائٹی کے موجودہ صدر خالد شفیق باجوہ سے پوچھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے رہائشی پلاٹس کو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منظور شدہ نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلان کے خلاف کمرشل کیسے بنایا گیا، تو انہوں نے کہا:

“یہ کام نہ میں نے کیا اور نہ موجودہ مینجمنٹ کمیٹی نے۔ یہ سب سابق انتظامیہ نے کیا تھا۔”

خالد شفیق باجوہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ رہائشی پلاٹس کی کمرشلائزیشن مکمل طور پر غیر قانونی تھی۔

یہ مؤقف چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے دعوے سے قطعاً مختلف ہے۔ سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے محکمہ کوآپریٹو کی مداخلت کے بعد ابدالین سوسائٹی کی انتظامیہ نے وہ حکم واپس لے لیا تھا جس کے ذریعے ان کے پلاٹس کی کمرشلائزیشن ختم کی گئی تھی، اور ان کے پلاٹس دوبارہ کمرشل پلاٹس میں تبدیل ہو گئے تھے۔

تاہم خالد شفیق باجوہ نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر “حکم امتناع” موجود ہے اور ابدالین سوسائٹی کا وکیل عدالت میں سوسائٹی کا مؤقف پیش کر رہا ہے۔

مزید سوالات پر انہوں نے یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ معاملہ عدالت میں ہے۔ فیکٹ فوکس نے ان سے ابدالین سوسائٹی کی نمائندگی کرنے والے وکیل کا نام بھی پوچھا، مگر انہوں نے مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا۔


لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منظور شدہ لے آؤٹ پلان

مارچ دوہزار گیارہ میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منظور شدہ نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق زمین کے استعمال کی تقسیم کچھ یوں تھی:

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کا منظور کردہ ابدالین کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائیٹی کا ریوائزڈ لے آئوٹ پلان

رہائشی رقبہ تریسٹھ اعشاریہ سولہ فیصد، کمرشل رقبہ ایک اعشاریہ چھتیس فیصد، عوامی عمارتیں دو اعشاریہ صفر چھ فیصد، سڑکیں چوبیس اعشاریہ چوالیس فیصد، کھلی جگہیں سات فیصد اور قبرستان دو فیصد۔

لینڈ یوز بریک اپ اور پلاٹوں کا شیڈول (لے آئوٹ پلان کا متعلقہ حصہ)

ابدالین کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائیٹی، فیز ون، بلاک سی (لے آئوٹ پلان کا متعلقہ حصہ)

اسی نظرثانی شدہ پلان میں “شیڈول آف پلاٹس” کے تحت بتایا گیا تھا کہ سوسائٹی میں پانچ مرلہ، سات مرلہ، دس مرلہ، تیرہ مرلہ، چودہ مرلہ، ایک کنال اور ڈیڑھ کنال کے پلاٹس ہوں گے۔

کمرشل پلاٹس کے بارے میں بتایا گیا کہ تین اعشاریہ چھ مرلہ کے چودہ پلاٹس، چار مرلہ کے سات پلاٹس، چھ اعشاریہ چھ مرلہ کے چھ پلاٹس اور سات مرلہ کے پانچ پلاٹس ہوں گے۔ سب سے بڑا کمرشل پلاٹ صرف سات مرلہ کا تھا۔

اصل لے آؤٹ پلان میں بھی کمرشل پلاٹس کا تناسب ایک اعشاریہ چھتیس فیصد ہی تھا۔ کمرشل پلاٹس کی تعداد بھی یہی تھی اور سب سے بڑا کمرشل پلاٹ بھی سات مرلہ کا تھا۔

ابدالین سوسائٹی کی انتظامیہ کے مطابق، تین کنال کے رہائشی پلاٹس کو کمرشل بنانے کی کوئی مثال موجود نہیں، خاص طور پر اس صورتحال میں جب اردگرد تمام مکانات رہائشی ہوں۔


فیکٹ فوکس ٹیم کا چیف الیکچن کمشنر کے متنازعہ پلاٹس کا معائنہ

سولہ مئی دوہزار چھبیس کو فیکٹ فوکس ٹیم ان پلاٹس کع دیکھنے گئی۔ درج ذیل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے پلاٹس کے اردگرد تمام پلاٹس پر رہائشی مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔

ٹیم فیکٹ فوکس کا ابدالین کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائیٹی لاہور کے فیز ون، بلاک سی کے رہائشی علاقے میں چیف الیکشن کمشنر کے خالی پلاٹون کا جائزہ

ویڈیو سے واضح ہوتا ہے کہ بلاک سی، فیز ون کے پلاٹ نمبر سات سی اور آٹھ سی پر کسی قسم کی تعمیر موجود نہیں۔ صرف ایک چاردیواری ہے، جس میں دروازہ تک موجود نہیں۔ باقی اطراف سے بھی پلاٹس بند ہیں۔

ان پلاٹس پر کسی قسم کی کوئی کاروباری سرگرمی نہیں دیکھی گئی۔ زمین پر ہر طرف جنگلی پودے اگے ہوئے تھے۔

فیکٹ فوکس کے اس معائنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ پہلے ہی ان رہائشی پلاٹس کی مشکوک کمرشلائزیشن پر سوالات موجود تھے۔ اب یہ سوال بھی اٹھنے لگا کہ آخر ملک کا چیف الیکشن کمشنر ایسی زمین کے عوض ایک کاروباری شخصیت سے مسلسل ماہانہ کرایہ کیسے وصول کر رہا ہے جہاں عملی طور پر کچھ بھی موجود نہیں۔


پلاٹس پر کوئی کاروبار نہ ہونے کے باوجود کرایہ وصول کرنے پر سکندر سلطان راجہ کا مؤقف

جب سکندر سلطان راجہ سے پوچھا گیا کہ وہ ان پلاٹس کو کمرشلائزڈ کر کے ایک کاروباری شخصیت سے کتنی آمدن حاصل کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا:

“میں اس پر آٹھ لاکھ روپے ماہانہ ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔”

جب ان سے پوچھا گیا کہ پلاٹس کمرشل مقاصد کے لیے لیز پر دیے گئے ہیں، کرایہ مسلسل ان کے بینک اکاؤنٹس میں آ رہا ہے، مگر وہاں کوئی کاروباری سرگرمی کیوں نظر نہیں آتی، تو بیس مئی دوہزار چھبیس کو انہوں نے جواب دیا:

“یہ لیز لینے والے پر منحصر ہے کہ وہ کاروبار کب شروع کرتا ہے۔ ممکن ہے وہ ابھی مختلف قانونی کارروائیاں مکمل کر رہا ہو، لیکن مجھے اس بارے میں علم نہیں۔ بھائی، میں کافی وضاحت دے چکا ہوں، اب اس موضوع پر مزید بات نہیں ہو گی۔”

سکندر سلطان راجہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے جولائی دوہزار پچیس میں ان پلاٹس کو کمرشل سرگرمی کے لیے لیز پر دینے کا معاہدہ کیا تھا۔

سوسائٹی انتظامیہ کے مطابق، ان رہائشی پلاٹس کی غیر قانونی کمرشلائزیشن کا عمل اس سے دو سال پہلے ہی مکمل کیا جا چکا تھا۔


ڈیفنس لاہور میں چیف الیکشن کمشنر کی وسیع و عریض رہائش گاہ

لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز آٹھ، ٹی بلاک میں چیف الیکشن کمشنر کی ایک انتہائی بڑی رہائش گاہ زیر تعمیر ہے۔

اس عمارت کا کورڈ ایریا نو ہزار مربع فٹ سے زیادہ ہے جبکہ لان وغیرہ سمیت کھلا حصہ تقریباً دس ہزار مربع فٹ پر مشتمل ہے۔

ٹیم فیکٹ فوکس کا ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی لاہور، فیز آٹھ، بلاک ٹی میں چیف الیکشن کمشنر کے زیر تعمیر منشن کا معائنہ

اس زیرتعمیر رہائش گاہ کے تینوں اطراف بڑی سڑکیں ہیں جبکہ چوتھی طرف گلی ہے۔ یہ رہائش گاہ تعمیر مکمل ہو جانے کے بعد ڈیفنس کے چند انتہائی بڑے گھروں میں شمار ہو گی جس کے چاروں سڑک ہو گی۔

اٹھارہ مئی کے انٹرویو میں جب فیکٹ فوکس نے سکندر سلطان راجہ سے پوچھا کہ ڈیفنس جیسے علاقے میں، جہاں عام طور پر ایک یا دو کنال کے پلاٹس ہوتے ہیں، وہ اتنا بڑا گھر کیسے تعمیر کر رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے صرف دو ایک کنال کے پلاٹس کو ملا کر تعمیر شروع کی ہے۔

تاہم جب فیکٹ فوکس ٹیم نے موقع کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ عمارت دو کنال سے بھی کہیں زیادہ بڑی دکھائی دیتی ہے۔

اس وضاحت کے لیے سکندر سلطان راجہ کو سوالات بھیجے گئے۔ انہوں نے انیس مئی کو واٹس ایپ پر جواب دیا:

“ہم ایک ایک کنال کے ساتھ ساتھ موجود دو پلاٹس کو ملا کر گھر بنا رہے ہیں، جو قواعد کے مطابق ممکن ہے۔ سامنے اور پیچھے والے پلاٹس کو آپس میں نہیں ملایا جا سکتا۔ ہمارے گھر کے سامنے خاندان کی ملکیت ایک دو کنال کا پلاٹ بھی موجود ہے، جسے نہ گھر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ ضم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے اجازت لے کر وقتی طور پر اسے لان کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جب تک وہاں الگ گھر تعمیر نہ ہو جائے۔”

ویڈیو میں موجود گرے اسٹرکچر اس عمارت کے غیر معمولی حجم کا اندازہ دیتا ہے۔


سعید مہدی فیکٹر

سعید مہدی پاکستان کی بیوروکریسی کی تاریخ کے طاقتور ترین افسران میں شمار ہوتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے سعید مہدی نے انتہائی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ وزیر اعظم نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں ان کے پرنسپل سیکرٹری بھی رہے۔

سعید مہدی

سعید مہدی کو نواز شریف کے قریبی اور قابل اعتماد بیوروکریٹس میں شمار کیا جاتا تھا۔ اگرچہ اس وقت حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون انہیں زیادہ اہمیت نہیں دیتی، تاہم ان کی ہمدردیاں اور وابستگیاں بدستور نواز شریف کے ساتھ سمجھی جاتی ہیں۔

پاکستانی بیوروکریسی میں یہ بات مشہور ہے کہ سعید مہدی ہمیشہ سکندر سلطان راجہ کی پوسٹنگز اور تبادلوں پر اثر انداز ہوتے رہے۔ بعد میں سکندر سلطان راجہ نے براہِ راست مسلم لیگ نون کی اعلیٰ قیادت سے روابط قائم کر لیے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اہم مناصب حاصل کرتے رہے۔ جب نواز شریف دوہزار تیرہ میں وزیر اعظم بنے تو انہوں نے سعید مہدی کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کا چیئرمین مقرر کیا۔

“سعید مہدی فیکٹر” کی وجہ سے سکندر سلطان راجہ بھی اپنے کیریئر میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔

سعید مہدی کے دو بچے بھی بیوروکریٹ ہیں۔ ان کے بیٹے عامر علی احمد اور بیٹی رباب سکندر ہمیشہ اہم عہدوں پر تعینات رہے۔

سینئر صحافی عمر چیمہ نے سن دوہزار پندرہ میں رپورٹ کیا تھا کہ اگلے گریڈ میں ترقی کیلیے تربیتی کورس کرنا لازمی ہے جو کہ ہمیشہ لاہور میں کیا جاتا تھا مگر اس سال وہ کورس اسلام آباد منتقل کر دیا گیا تاکہ عامر علی احمد اور ان کی بہن رباب سکندر کو اسلام آباد میں اپنے گھروں کے سکون میں رہتے ہوئے یہ لازمی کورس کرنے کا موقع مل جائے۔


کینیڈین شہریت سے متعلق جھوٹا الزام

سوشل میڈیا پر بعض افراد نے یہ الزام لگایا کہ سکندر سلطان راجہ اور ان کے خاندان کے افراد کینیڈین شہریت رکھتے ہیں۔

فیکٹ فوکس نے اس معاملے پر سکندر سلطان راجہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ کبھی پاکستان نہیں چھوڑیں گے۔

ان کے مطابق صرف ان کے بیٹے نے ایک کینیڈین شہری خاتون سے شادی کی ہے، اسی وجہ سے ان کی بہو کینیڈین شہری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ ہمیشہ پاکستانی پاسپورٹ پر ہی کینیڈا جاتی رہی ہیں۔