پی ٹی ایم کی پختون قومی عدالت کے انعقاد کو روکنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتیں متحرک، پی ٹی ایم کا کیمپ پر فائرنگ کا دعوی

ہفتہ کے روز ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں پشتون تحفظ موومنٹ نے پختون قومی عدالت منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ 

سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کے راہنماؤں نے پولیس کی طرف سے پختون قومی عدالت کے کیمپ پر پولیس کے چھاپہ، فائرنگ اور آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کا دعوی کیا ہے۔پی ٹی ایم راہنماؤں نے کہا ہے کہ پولیس کی اس کاروائی میں ان کے 4 کارکن جاں بحق ہو گئے ہیں۔پی ٹی ایم راہنماؤں  نے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں پی ٹی ایم کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔جبکہ کیمپ کے ٹینٹ وغیرہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ علاقے میں ان کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔اس کے باوجود ہم ہر حال میں پختون قومی عدالت منعقد کرکے رہیں گے۔

جبکہ صوبائی اور وفاقی حکام نے پختون قومی عدالت کے کیمپ پر کاروائی کی تصدیق یا تردید نہیں کی.پشتون تحفظ موومنٹ کے بانی راہنما محسن داوڑ نے امریکہ میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی کاروائی میں کارکنوں کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں پختون قومی جرگہ کے خلاف مشترکہ کاروائی کر رہی ہیں۔محسن داوڑ نے کہا کہ وزیر اعلی گنڈا پور قومی عدالت کے پنڈال پر پولیس کاروائی سے خود بری الذمہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پولیس ان کے احکامات نہیں مانتی۔ لیکن وہی پولیس وقاق کے خلاف وزیراعلی کے مظاہروں کے موقع پر وزیراعلی کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔وہی پولیس وفاق  سے بھاگ کر آنے والے پی ٹی آئی کارکنوں اور راہنماوں کو صوبے میں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ 

حکومت کیا کر رہی ہے؟

وفاقی حکومت نے پختون قومی عدالت کے انعقاد کو نا ممکن بنانے کے لیے پہلے تو ان کو اجتماع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔بعد ازاں پی ٹی ایم کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کرنے پر عدالت نے ان کو اجتماع کی اجازت دے دی تھی۔تاہم عدالتی حکومت حکم کے بعد وفاقی حکومت نے پختون قومی عدالت کے انعقاد سے 6 روز قبل پشتون تحفظ موومنٹ کو ہی کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس کے علاوہ حکومت نے پی ٹی ایم کا راہنماوں کو فورتھ شیڈویل میں شامل کر دیا تھا۔اب بھی حکومت پختون قومی عدالت کے انعقاد کو روکنے کے لیے سرگرم ہے۔

پختون خواہ کے گورنر کنڈی ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی آئی جی پولیس، آئی جی ایف سی, چیف سیکریٹری اور دیگر حکام اس وزیراعلی ہاوس پہنچ گئے ہیں۔جہاں پختون قومی جرگہ کے انعقاد کو روکنے کے لیے صوبائی جرگہ منعقد کیا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی کے مطابق خیبر پختون خواہ کی صورتحال پر صوبہ کے حالات کی خرابی اور خیبر کی صورتحال کے بعد صوبائی پارلیمانی لیڈر نے پوری صوبائی اسمبلی کو ایک کمیٹی یا جرگہ ڈیکلیئر کر دیا جسکی سربراہی صوبہ کے چیف ایگزیکٹیو کرینگے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مظابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب رات گئے وزیراعلی خیبر پختون خواہ نے رابطہ کر کے گورنر کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ کو جمعرات کے روز وزیراعلی ہاوس میں  منعقد ہونے والے صوبائی جرگے میں شرکت کی دعوت دی۔گورنر کنڈی وزیر اعلی کی دعوت پر اسلام آباد میں اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے پشاور روانہ ہو گئے۔پی ٹی ایم کے پختون قومی عدالت کے انعقاد کو روکنے کے لیے وزیر اعلی ہاوس میں صوبائی جرگے سے قبل جمعرات کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں بھی اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔اعلی سطحی اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی ، وزیر داخلہ محسن نقوی ، وفاقی وزیر امیر مقام شریک تھے۔جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان ۔ قومی وطن پارٹی کے سکندر شیرپاو۔ آئی جی خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری خیبرپختونخواچوہدی ندیم اسلم ، رکن صوبائی اسمبلی ارباب ذرک خان، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا ، اے این پی کے میاں افتخار۔ آئی جی ایف سی بھی شریک تھے۔

زرائع ابلاغ پر جمرود میں مقامی زرائع کےمطابق پختون قومی عدالت کے پنڈال پر پولیس کی کاروائی کے بعد پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری پنڈال سے فاصلے پر تعینات کی گئی ہے اور پولیس اہل کار بالکل خاموش دکھائی دیتے ہیں۔

کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے واقع کے بعد ویڈیو اور آڈیو پیغامات میں سہہ روزہ پختون قومی جرگہ کو ہر حالت میں منعقد کرنے کا عزم دہرایا ہے۔

سیاسی جماعتوں اور راہنماوں کا کردار

جمیعت علماء اسلام، عوامی نیشنل پارٹی جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے مقامی رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دینے کے وفاقی حکومت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اور تین روزہ پختون قومی جرگے کے انعقاد کی حمایت بھی کی ہے۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات  رات خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمرود غنڈی ریگی للمہ میں کالعدم قرار دی جانے والی پشتون تحفظ تحریک کے کارکنوں پر پولیس اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ اور جانی نقصانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔حزبِ اختلاف میں شامل جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، جمیعت علماء اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے بھی جمرود واقعےاور وفاقی حکومت کے پشتون تحفظ تحریک پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کی۔ بحث کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی نے پی ٹی ایم اور پولیس کے درمیان تصادم کے حوالے سے وزیر قانون افتاب عالم ایڈووکیٹ کے سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنانے کی منظوری دی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کمیٹی کے تشکیل کے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا پہلا اجلاس اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہو گا.

وزیر اعلی گنڈا پور سے کچھ روز قبل پی ٹی ایم کے راہنما منظور پشتین نے ملاقات کر کے ان کو قومی عدالت میں شرکت کی دعوت دی تھی جس کا وزیراعلی نے مثبت جواب دیا تھا۔ تاہم پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور صوبائی حکومت پی ٹی ایم حمایت سے پیچھے ہٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ 

عدالت کا کردار

2 ہفتے قبل حکومت کی طرف سے  جمرود میں پی ٹی ایم کو پنڈال قائم کرنے سے روکنے پر پی ٹی ایم نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے ان کو پختون قومی عدالت کا اجتماع منعقد کرنے کی اجازت دی دی تھی۔ تاہم 4 روز قپل پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد بدھ کے روز کی سماعت میں عدالت نے پی ٹی ایم کو ہدایت کی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے تنظیم کو کالعدم قرار دییے جانے کے حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کریں.  اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اب عدالت پی ٹی ایم کے اجتماع قومی عدالت کے انعقاد  سے متعلق اپنے ہی جاری کردہ حکم کو واپس لے رہی ہے۔ 

وزیر اعلی ہاوس میں منعقدہ حکومتی صوبائی جرگے میں کیا ہو رہا ہے؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین  گنڈاپور کی میزبانی میں صوبائی  جرگہ وزیراعلی ہاوس پشاور میں منعقد ہوا ۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےجرگے میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کی۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی بھی جرگے میں شریک تھے۔

جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین خیبر پختونخوا اسمبلی اور دیگر پارلیمنٹیرینز جرگے میں شریک تھے۔ اس کے علاؤہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی جرگے میں اپنی اپنی جماعتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

جرگے میں شریک نمایاں سیاسی شخصیات میں ایمل ولی خان، پروفیسر ابراہیم ، محسن داوڑ، میاں افتخار حسین محمد علی شاہ باچا، سکندر شیرپاؤ، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد، وفاقی وزیر امیر مقام اور دیگر شامل ہیں۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس آج ہم سب سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر صوبے میں امن کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ شہری چاہے ان کا تعلق عام عوام سے ہو یا فورسز سے انکی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری اور ترجیح ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس جرگے کے ذریعے ہم درپیش مسئلے کے پرامن حل کے لئے راستہ نکالنے میں کامیاب ہونگے۔ 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ کا امن ہماری ترجیحات اور آج کے جرگہ کا اکلوتا ایجنڈا ہے اس جرگہ کے انعقاد پر جہاں صوبائی حکومت کا میں شکر گزار ہوں وہیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی آمد پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس جرگہ کاانعقاد کیا ہمارے سیاسی اختلافات موجود ہیں مگر صوبہ کا امن عوام کی خوشحالی ہماری ترجیحات ہیں اور عوام اور صوبہ کا مفاد ہماری ترجیحات ہیں انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہی تمام مسائل کا حل ہیں اس خطہ میں افغانستان کا مسئلہ ہمارے سامنے ہے جہاں عالمی برادری مزاکرات سے مسئلہ کے حل پر متفق ہوئی کل خیبر میں افسوسناک واقعہ ہوا ہمارے پاس وقت کم ہے ہم نے سب کو مذاکرات پر آمادہ کرنا اور مسئلہ کا حل نکالنا ہے جو لوگ اس ملک کے آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہیں ان سے مذاکرات کرنے چاہییں انہوں نے کہا کہ کچھ مطالبات صوبائی حکومت سے ہونگے کچھ وفاقی حکومت کے ہونگے یہاں وزیر اعلی بھی بیٹھے ہیں وزیر داخلہ بھی اور سیاسی قیادت بھی ہمیں آج اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا انہوں نے کہا کہ امن کی صورتحال ابتر ہے صوبہ کے متعدد علاقے آج بھی نوگو ایریاز ہیں ہم سب کو متحد ہوکر اس صوبہ کو امن دینا ہوگا۔